Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سوتیلی بھانجی کی بیٹی سے نکاح کا حکم

Answered by
مولانا محمد فراز عطاری مدنی
Fatwa no.
4059-WAT
Issued
30 محرم الحرام 1447ء / 26 جولائی 2025ء

Question

سوتیلی بھانجی کی بیٹی سے نکاح کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) لڑکے کا اور لڑکی کا ابو ایک ہے ، لیکن امی الگ الگ ہے اور جس لڑکی سے وہ شادی کرنا چاہتا ہے ، وہ اس کی بھانجی کی بیٹی ہے اور اس کی بھانجی کی شادی اس کی خالہ کے بیٹے سے ہوئی ہے ، تو کیا وہ اس لڑکی سے شادی کر سکتا ہے ؟ ( یعنی سوتیلی بھانجی کی بیٹی سے نکاح کرنا کیسا ؟ ) جواب

Answer (beginning)

سوتیلی بھانجی (باپ شریک بہن کی بیٹی) کی بیٹی سے نکاح کرنا ، ناجائز و حرام ہے ۔ تفصیل یہ ہے کہ بھانجی محرمات (یعنی جن سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نکاح کرناحرام ہو، ان ) میں داخل ہے ، اس کی حرمت نص قطعی سے ثابت ہے اور فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق اس حرمت میں بالاجماع بھانجی کی اولاد در اولاد نیچے تک شامل ہے ، چاہے وہ سگی ہوں یا سوتیلی۔ لہذا سوتیلی بھانجی ( یعنی باپ شریک بہن کی بیٹی) کی بیٹی بھی محارم عور توں میں داخل ہے کہ بہن ، سگی ہو یا ماں شریک یا باپ شریک، وہ بہن ہی ہوتی ہے ، اس سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہے ۔ لہذا ان کی اولاد سے بھی نکاح ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حرام ہوگا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.