Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حیض کے ساتھ عدت گزاری جائے توکب ختم ہوگی؟

Answered by
مولانا محمد سجاد عطاری مدنی
Fatwa no.
4058-WAT عالم الافيا اهلسنت
Issued
29 محرم الحرام 1447ء 25 جولائی 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)

Question

حیض کے ساتھ عدت گزاری جائے تو کب ختم ہوگی ؟ دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حیض والی عورت کے لیے طلاق کی عدت تین حیض ہے تو کیا تیسرے حیض میں جس دن حیض آیا ، اس دن عدت ختم ہوگی یا جب تیسرا حیض ختم ہو جائے تب عدت مکمل ہوگی ؟ جواب

Answer (beginning)

حیض والی کی طلاق کی عدت تیسرا حیض ختم ہونے پر ہی ختم ہوگی نہ کہ تیسرا حیض شروع ہونے پر ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : (وَالْمُطَلَّقْتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَثَةَ قُرُوءٍ) ترجمہ کنز العرفان : اور طلاق والی عورتیں اپنی جانوں کو تین حیض تک روکے رکھیں ۔ (القرآن، پارہ 2، سورۃ البقرہ، آیت : 228) در مختار میں ہے ” ( ثلاث حيض كوامل) لعدم تجزي الحيضة، فالاولى لتعرف براءة الرحم، والثانية لحرمة النكاح والثالثة لفضيلة الحرية ترجمہ : تین مکمل حیض کا گزارنا ، اس لیے کہ حیض میں تقسیم نہیں ہوتی ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.