Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مقتدی کے لیے تکبیرات انتقال کہنے کا حکم
- Fatwa no.
- 4053-WAT
- Issued
- 28 محرم الحرام 1447 ھ / 24 جولائی 2025. علم الافتاء اهلسنت
Question
مقتدی کے لیے تکبیرات انتقال کہنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) مقتدی کے لیے تکبیرات انتقال کہنے کا کیا حکم ہے؟ جواب
Answer (beginning)
مقتندی بھی آہستہ آواز سے تکبیرات انتقال کہے گا، امام کی طرح، مقتدی کے لیے بھی یہ تکبیرات کہنا سنت ہے ۔ در مختار میں نماز کی سنتیں بیان کرتے ہوئے فرمایا : ” ( وجهر الامام بالتكبير) بقدر حاجته للاعلام بالدخول و الانتقال، وكذا بالتسميع والسلام. وأما المؤتم والمنفرد فيسمع نفسه “ترجمہ : امام کا نماز میں داخل ہونے اور ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف منتقل ہونے پر آگاہ کرنے کے لیے بقدرِ ضرورت بلند آواز سے تکبیر کہنا اور اسی طرح سمع اللہ لمن حمدہ کہنا اور سلام کہنا ہے ۔ اور مقتدی اور تنہا نماز پڑھنے والا صرف اتنی آواز سے کہے گا کہ خودسن لے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.