Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اعضائے وضو خشک ہونے کے بعد تحیۃ الوضو پڑھنا

Answered by
مولانا محمد شفیق عطاری مدنی دام الافيا اهلسنت
Fatwa no.
4052-WAT
Issued
28 محرم الحرام 1447ھ /24 جولائی 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)

Question

اعضائے وضو خشک ہونے کے بعد تحیۃ الوضو پڑھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) جب وضو کر لیں اور وضو کا پانی خشک ہو جائے تو کیا اسی وضو سے تحیۃ الوضو نماز پڑھ سکتے ہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

وضو کے بعد اعضاے وضو کے خشک ہونے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھنا تحیۃ الوضو کہلاتا ہے ۔ لہذا اگر اتنی دیر کر دی کہ اعضائے وضو خشک ہو گئے تو پھر تحیۃ الوضو نہیں ہوگی ۔ مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے ”و ندب ركعتان بعد الوضوء قبل جفافه لقوله صلى الله عليه وسلم:مامن مسلم يتوضأ فيحسن وضوء ، ثم يقوم فيصلي ركعتين يقبل عليهما بقلبه إلا وجبت له الجنة “ترجمہ : وضو کے بعد ، اعضائے وضو خشک ہونے سے پہلے دور کعتیں پڑھنا مستحب ہے، اس حدیث کی وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو مسلمان اچھی طرح وضو کرے ، پھر کھڑے ہو کر دور کعتیں ایسے پڑھے کہ ان میں دل سے متوجہ ہو ، تو اس کے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.