Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مُردوں کے ستر کے احکام

Fatwa no.
4051-WAT
Issued
28 محرم الحرام 1447ء 24 جولائی 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)

Question

مُردوں کے ستر کے احکام دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا مردوں کے ستر کا حکم بھی زندوں کی طرح ہی ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

جی ہاں ! مردوں کے ستر کا حکم بھی زندوں کی طرح ہی ہے ، لہذا جس طرح بلاعذر شرعی زندہ کے ستر کو دیکھنا جائز نہیں، اسی طرح میت کے ستر عورت کو دیکھنا بھی جائز نہیں ہے . میت کا ستر دیکھنے کی ممانعت سے متعلق سن ابی داود، سنن ابن ماجه ، دار قطنی، مشکوۃ المصابیح و غیر با کتب حدیث میں حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ کو ارشاد فرمایا : "لا تبرز فخذك، ولا تنظر إلى فخذ حي، ولامیت “ ترجمہ : اے علی ! نہ اپنی ران کھولو، اور نہ کسی زندہ و مردہ کی ران دیکھو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.