Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز کے انتظار میں ذکر و اذکار کرنا
- Answered by
- مولانا محمد فراز عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4046-WAT
- Issued
- 27 محرم الحرام 1447ء 23 جولائی 2025ء علم الافتاء اهلسنت
Question
نماز کے انتظار میں ذکر واذکار کرنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) حدیث پاک میں ہے کہ : "جو بندہ نماز کے انتظار میں بیٹھتا ہے ، وہ نماز میں ہی ہوتا ہے ۔ " تو جو شخص جلدی مسجد میں آجائے اور وہ نماز کے انتظار میں بیٹھا ہو، نماز کا وقت باقی ہو توکیا وہ ذکر واذکار اور قرآن پاک کی تلاوت کر سکتا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
جی ہاں ! حدیث پاک میں ہے کہ جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا ہو، وہ نماز میں ہوتا ہے ، البتہ ایسا شخص ذکر و اذکار اور قرآن پاک کی تلاوت کر سکتا ہے ، کیونکہ یہاں نماز میں ہونے سے حقیقی نماز میں ہونا مراد نہیں بلکہ حکماً نماز میں ہونا مراد ہے ۔ لہذا ایسا شخص ذکر واذکار، دعا و قرآن پاک کی تلاوت کر سکتا ہے ۔ چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث پاک میں نماز کا انتظار کرنے والے کے متعلق حضرت ابوہریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "ولا يزال أحدكم في صلاة ما انتظر الصلاة “ترجمہ : جب تک تم میں سے کوئی نماز کا انتظار کرتا ہے ، وہ نماز میں ہی رہتا ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.