Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جدہ رہنے والے کا بغیر احرام مکہ مکرمہ جانا
- Answered by
- ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی دام الافيا اهلسنت
- Fatwa no.
- 4041-WAT
- Issued
- 25 محرم الحرام 1447 ھ / 21 جولائی 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)
Question
جدہ رہنے والے کا بغیر احرام مکہ مکرمہ جانا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) میری جدہ شہر میں رہائش ہے اور میں بغیر احرام کے جدہ سے مکہ مکرمہ اپنا سامان لینے کے لئے گیا، وہاں پہنچ کر میں نے اپنے رشتہ دار سے سامان لیا اور عمرہ کئے بغیر واپس آگیا، کیونکہ جب میں جدہ سے مکہ مکرمہ کی طرف جارہا تھا ، تو اس وقت میرا عمرہ کا کوئی ارادہ نہیں تھا، اسی وجہ سے میں بغیر احرام کے ہی مکہ مکرمہ چلا گیا، توکیا میرا ایسا کرنا شرعاً جائز ہوا ؟ کیا مجھ پر دم واجب ہوگا ؟ جواب
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں آپ پر دم وغیرہ کچھ نہیں ہے ۔ تفصیل اس میں یہ ہے کہ : جدہ ، جل میں ہے ( یعنی میقات کے اندر اور حرام سے باہر ہے) اور جل کے رہنے والے کے بارے میں حکم شرعی یہ ہے اگر وہ حج یا عمرے کا ارادہ نہ رکھتا ہو، تو وہ بغیر احرام کے بھی مکہ مکرمہ جاسکتا ہے ۔ چنانچه تنویر الابصار مع در مختار میں ہے ( وحل لاهل داخلها) يعنى لكل من وجد في داخل المواقيت (دخول مكة غير محرم)مالم يردنسكا“ترجمہ : اور حل کے رہنے والے یعنی ہر وہ شخص جو میقات کے اندر رہتا ہو، اس کے لئے بغیر احرام کے مکہ مکرمہ میں داخل ہونا جائز ہے جب تک کہ اس نے حج یا عمرہ کا ارادہ نہ کیا ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.