Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کرایہ پر دینے کے لئے خریدی گئی دکان پر زکوٰۃ کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4040-WAT
- Issued
- 25 محرم الحرام 1447 هـ / 21 جولائی 2025 ء
Question
کرایہ پر دینے کے لئے خریدی گئی دکان پر زکوۃ کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کسی نے کرائے پر دینے کے لیے شاپ خریدی ہے تو کیا اس پر زکوۃ ہوگی ؟ جواب
Answer (beginning)
کرایہ پر دینے کے لئے خریدی گئی دکان پر زکوۃ واجب نہیں ہے ، البتہ ! اس کے کرائے کی رقم خود یا دیگر اموال زکوۃ کے ساتھ مل کر نصاب کو پہنچ رہی ہو اور اس پر سال گزر جائے اور دیگر شرائط زکوۃ بھی پائی جائیں، تو کرائے کی رقم پر زکوۃ فرض ہوگی، ورنہ نہیں ۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے ”ولواشتری قدوراً من صفر يمسكها ويؤاجرها لا تجب فيها الزكاة كما لا تجب في بيوت الغلة ترجمہ : اگر پیتل کی دیگ خریدی کہ اسے رکھے گا اور کرائے پر دے گا (تو) اس میں زکوۃ واجب نہیں جیسا کہ کرائے کے گھروں میں واجب نہیں ہوتی ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.