Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

آنکھ نہ کھلنے کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے تو کیا حکم ہے؟

Fatwa no.
4036-WAT
Issued
23 محرم الحرام 1447ء 19 جولائی 2025ء

Question

آنکھ نہ کھلنے کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے تو کیا حکم ہے؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ماہ رمضان میں سحری کے وقت آنکھ نہیں کھلی ، جس وجہ سے روزہ نہیں رکھا، تو کیا اب اس روزے کی صرف قضا کافی ہے یا کفارہ بھی دینا ہو گا ؟ جواب

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں صرف اس روزے کی قضا کرنی ہے ، کفارہ لازم نہیں کہ روزہ چھوڑنے پر کفارہ نہیں ہو تا بلکہ روزہ توڑنے پر شرائط پائی جانے کی صورت میں کفارہ لازم ہوتا ہے ۔ اہم نوٹ : یہ یا درکھیں کہ سحری کرنا سنت ہے اور روزہ رکھنا فرض ہے ، ادائے رمضان کے روزے کی نیت ضحوی کبری تک ہو سکتی ہے جبکہ طلوع صبح صادق کے بعد سے نیت کرنے کے وقت کے درمیان کچھ کھایا پیا وغیرہ نہ ہو، لہذا پوچھی گئی صورت میں بلا سحری کیے بھی روزہ نبھانے کی اگر طاقت تھی تو روزہ تو فرض تھا ، اب محض اس لیے روزہ چھوڑ دیا کہ سحری میں نہیں اٹھے تو یہ بلاوجہ شرعی روزہ چھوڑنا ہو جو کہ ناجائز وگناہ ہے ، ایسی صورت میں تو بہ لازم ہوگی ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.