Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قضا روزوں میں سال معین کرنے کا حکم
- Fatwa no.
- 4034-WAT
- Issued
- 22 محرم الحرام 1447ء 18 جولائی 2025ء
Question
قضا روزوں میں سال معین کرنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) قضا روزے کی نیت اس طرح کرنا کہ میں قضا روزہ رکھنے کی نیت کرتا ہوں ، لیکن کس سال کے روزے کی قضا کر رہا ہوں ، اس کی نیت نہ کی، تو کیا قھنا روزہ ہو جائے گا ؟ جواب
Answer (beginning)
روزوں کی قضا میں دن اور سال کی تعیین کرنا کہ یہ فلاں سال کے فلاں دن کا روزہ ہے یہ بہتر ہے ، لازم و ضروری نہیں ، لہذا صرف قضا روزے کی نیت سے رکھ لیا تب بھی روزہ ہو جائے گا۔ فتاوی عالمگیری میں ہے ”اذا وجب عليه قضاء يومين من رمضان واحد ينبغي أن ينوي أول يوم وجب عليه قضاؤه من هذا الرمضان، وإن لم يعين الأول يجوز ، و كذالو كان عليه قضاء يومين من رمضانين هو المختار و لونوى القضاء لا غير يجوز، وإن لم يعین کذا فی الخلاصة “ ترجمہ : جب کسی پر ایک رمضان کے دو روزوں کی قضاء ہو تو اس کو چاہیئے کہ پہلے اس دن کی نیت کرے جس کی قضا اس پر پہلے واجب ہوئی ، اور اگر وہ پہلے کی تعیین نہیں کرتا تو بھی جائز ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.