Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا بچے کا نام "شعبان علی" رکھ سکتے ہیں؟

Answered by
مولانا محمد حسان عطاری مدنی
Fatwa no.
4031-WAT
Issued
22 محرم الحرام 1447 هـ / 18 جولائی 2025ء

Question

کیا بچے کا نام "شعبان علی " رکھ سکتے ہیں ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شعبان علی کا کیا معنی ہے اور یہ نام رکھنا کیسا؟ جواب

Answer (beginning)

شعبان ، اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ ہے ، جو بہت بابرکت مہینہ ہے ، اگر کوئی اس کی نسبت سے اپنا نام شعبان رکھے اور مولائے کائنات سید نا علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہ الکریم کی نسبت سے علی نام رکھے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ البتہ ! بہتر ہے کہ برکت و فضیلت حاصل کرنے کے لئے اولا لڑکے کا نام محمد رکھا جائے پھر پکارنے کے لئے کوئی دوسرا نام رکھا جائے ۔ کنز العمال میں حدیث پاک منقول ہے " من ولدله مولود ذکر فسماه محمدا حبالي وتبركا باسمي كان هوو مولوده في الجنة “جس کے یہاں لڑکا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کیلئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اُس کا لڑکا دونوں جنت میں جائیں گے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.