Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا انسانوں کے مابین الفت و تعلق عالمِ ارواح میں روحوں کے تعلق و پہچان کی وجہ سے ہے؟
- Answered by
- مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4030-WAT
- Issued
- 21 محرم الحرام 1447ء / 17 جولائی 2025ء
Question
دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) دنیا میں جو انسانوں کے مابین الفت و تعلق پایا جاتا ہے ، یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ عالم ارواح میں ان کی روحیں آپس میں جان پہچان رکھتی تھیں ، کیا یہ بات درست ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
جی ہاں ! یہ بات درست ہے کہ حدیث پاک سے ثابت ہے کہ جوڑو میں عالم ارواح میں ایک دوسرے کو پہچانتی تھیں تو دنیا میں آنے کے بعد بھی اُن کی یہ جان پہچان باقی رہتی ہے ۔ لیکن انہیں یہ یاد نہیں ہو تا کہ وہاں جان پہچان تھی یا نہ تھی ۔ ارواح کی یہ اُلفت و اجنبیت الہام الہی سے ہوتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ نیک، نیکوں کی طرف اور بد، بدوں کی طرف مائل ہوتا ہے ۔ حدیث پاک میں ہے ” الأرواح جنود مجندة فما تعارف منها ائتلف، وماتناكرمنهااختلف “ترجمہ : روحیں مخلوط لشکر تھیں تو ان میں سے جن کی آپس میں جان پہچان تھی ، وہ الفت کرتی ہیں اور جن میں اجنبیت تھی وہ الگ رہتی ہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.