Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حرم شریف میں کام کرنے والوں کا لوگوں سے ہدیہ لینا
- Fatwa no.
- 4028-WAT
- Issued
- 21 محرم الحرام 1447ء 17 جولائی 2025. علام الاقناة اهلسنت
Question
حرم شریف میں کام کرنے والوں کا لوگوں سے بد یہ لینا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) میری حرم شریف میں ڈیوٹی ہے ۔ یہاں پر بعض لوگ جو حج یا عمرہ کرنے آتے ہیں، بغیر مانگے کچھ پیسے کام کرنے والوں کو ہدیہ دے دیتے ہیں، بعض کام کرنے والے لوگوں سے مانگ کر لیتے ہیں ، ایسا کرنا کیسا ہے ؟ یہ پیسہ لینا ہمارے لئے درست ہے یا نہیں ؟ جواب
Answer (beginning)
حرم شریف میں جو لوگ مختلف ڈیوٹیاں سر انجام دے رہے ہوتے ہیں ، بعض زائرین از خودان کو ہدیہ پیسے وغیرہ کوئی چیز دیتے ہیں، یہ تحفہ ہے ، ان کے لئے اسے لینے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ کسی خادم کا کسی زائر سے پیسے مانگنا ، جائز نہیں کہ یہ بلا اجازت شرعی سوال ہے اور ایسا سوال کرنے کی اجازت نہیں ۔ بخاری شریف کی حدیث پاک میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : " ما يزال الرجل يسأل الناس حتى يأتي يوم القيامة ليس في وجهه مزعة لحم "ترجمه : آدمی لوگوں سے سوال کرتا رہے گا، یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.