Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
خنزیر کا بال کپڑوں پر لگا ہونے کی حالت میں نماز کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4025-WAT
- Issued
- 20 محرم الحرام 1447 ھ / 16 جولائی 2025. دار الافتاء اهلسنت
Question
خنزیر کا بال کپڑوں پر لگا ہونے کی حالت میں نماز کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر خنزیر کا کوئی بال کپڑے میں لگارہ جائے اور اسی حالت میں نماز پڑھی تو نماز کا کیا حکم ہو گا ؟ جواب
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں نماز درست ہو جائے گی، تاہم اس نماز کو دہرانا مستحب و بہتر ہے ۔ اس لیے کہ خنزیر نجس العین ہے تو اس کا بال بھی نجاست غلیظہ ہے اور نجاست غلیظہ جب کپڑے یا بدن پر ایک درہم سے کم لگی ہو تو نماز پڑھنا جائز تو ہے ، البتہ خلاف سنت ہے ، ایسی نماز کا دہرانا بہتر ہوتا ہے اور ایک بال عموما در ہم سے کم ہی ہوتا ہے کہ اس صورت میں درہم سے مراد اس کا وزن ہے جو کہ ساڑھے چار ماشے ہے ۔ رد المحتار میں خنزیر کے بالوں کے بارے میں ہے " على قول أبي يوسف الذي هو ظاهر الرواية أن شعره نجس و صححه في البدائع ورجحه في الاختيار.
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.