Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کسی دوسرے سے استخارہ کروانے کا حکم

Fatwa no.
4021-WAT
Issued
19 محرم الحرام 1447ء / 15 جولائی 2025ء

Question

کسی دوسرے سے استخارہ کروانے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کچھ لوگ کہتے ہیں کہ استخارہ خود کرنا چاہیے کسی سے نہیں کروانا چاہیے ، کیا یہ درست ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

خود استخارہ کرنا چاہیے یہ بات درست ہے لیکن کسی اور سے استخارہ کروانا بھی جائز ہے ، مستند مشائخ کے ہاں اس کا معمول ہے اور امت کا اس پر عمل بھی ہے ، استخارہ غیب جاننے کا نام نہیں، نہ ہی اس سے کوئی یقینی و حتمی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے بلکہ استخارہ سے ظنی طور پر اپنے امور میں خیر و بھلائی کا اشارہ پانا مقصود ہوتا ہے اب وہ خواہ اپنے عمل سے ہویا کسی اور کے عمل سے ، شریعت مطہرہ میں اس کی کوئی ممانعت نہیں ہے ، جو کہتے ہیں کہ کسی سے استخارہ نہیں کروانا چاہیے انھیں چاہیے کہ اس پر کوئی شرعی دلیل دیں ورنہ ایسی بات اپنی طرف سے بیان نہ کریں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.