Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قبرستان میں کھیلنے کا حکم

Answered by
مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
Fatwa no.
4020-WAT
Issued
19 محرم الحرام 1447 هـ / 15 جولائی 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)

Question

قبرستان میں کھیلنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ہمارے ہاں ایک وسیع جگہ قبرستان کے لیے وقف ہے ، جس میں ابھی کافی جگہ فارغ موجود ہے ، سائڈ پر قبریں بھی ہیں تو کیا فارغ پڑی زمین پر نیٹ وغیرہ لگا کے اسے والی بال کھیل اور دوڑ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت کے مطابق جو جگہ قبرستان کے لیے وقف ہو چکی ہے ، اسے کھیل اور دوڑ کے لیے استعمال کرنا ، جائز نہیں ہے کیونکہ جو جگہ قبرستان کے لیے وقف ہو چکی ، اس میں سوائے دفن کے کوئی اور کام کرنا غرض وقف کے خلاف ہے جو کہ جائز نہیں، لہذا نہ تو قبرستان میں کھیلنا جائز ہے اور نہ کھیل کے لیے نیٹ وغیرہ لگانا جائز ہے ۔ در مختار میں ہے "شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به "ترجمہ : واقف کی شرط شارع کی نص کی طرح ہے یعنی مفہوم و دلالت اور اس پر عمل کے واجب ہونے میں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.