Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عورت کا بیوٹی پارلر میں کسٹمر بھیج کر کمیشن لینا
Question
عورت کا بیوٹی پارلر میں کسٹمر بھیج کر کمیشن لینا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ایک عورت کا سوال ہے کہ کیا وہ بیوٹی پارلر میں کسٹمر بھیج کر کمیشن لینے کا کام کر سکتی ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
کسی کسٹمر کو دوکاندار کے ساتھ ملا کر پیسے کمانے کا کام بروکری کہلاتا ہے ۔ اور شریعت مطہرہ میں اس کی اجازت موجود ہے ۔ البتہ ابروکری کے ذریعے کمیشن لینے کی کچھ شرائط ہیں کہ جائز کام کے لیے بروکری کی جائے ، بروکری کرنے والا واقعی محنت و کوشش کرے اور بھاگ دوڑ کرے ، فقط کسی کو مشورہ دے کر کمیشن وصول نہ کرے ، فریقین کے ساتھ کسی طرح کا دھوکہ نہ کرے ، جھوٹ نہ بھولے ، عرف کے مطابق کمیشن لے ۔ اور اگر عورت یہ کام کرے تو اس کے لیے مزید تاکید یہ بھی ہوگی کہ اس کام کے لیے مردوں کے ساتھ میل جول نہ ہو، اور اس کام کے لیے بے پردہ گھومتی نہ رہے، یہ کام کرنے میں کسی قسم کے فتنے کا اندیشہ نہ ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.