Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
میت پر جانے کے بعد وضو کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4012-WAT
- Issued
- 16 محرم الحرام 1447 ھ / 12 جولائی 2025. دام الافيا اهلسنت
Question
میت پر جانے کے بعد وضو کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگ کسی کی میت میں جانے کے بعد وضو کرتے ہیں ۔ کیا کسی کی میت میں جانے کے بعد وضو کرنا ضروری ہے ؟ یہ ایک رواج بن چکا ہے ، رہنمائی فرما دیجیے ؟ جواب
Answer (beginning)
کسی کی میت پر جانے کی وجہ سے وضو کر ناشر عاضروری نہیں۔ البتہ غسل میت کے بعد وضو کرنا مستحب ہے ۔ حدیث پاک کی مشہور کتاب موطا امام مالک میں ہے " أن أسماء بنت عمیس امرأة أبي بكر الصديق رضي الله عنه غسلت أبا بكر حين توفي، فخرجت، فسألت من حضرها من المهاجرين، فقالت: إني صائمة، وإن هذا يوم شديد البرد فهل علي من غسل؟ قالوا: لا، قال محمد: وبهذا نأخذ، لا بأس أن تغسل المرأة زوجها إذا توفي، ولا غسل على من غسل الميت ولا وضوء إلا أن يصيبه شيء من ذلك الماء فيغسله "ترجمہ : حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد آپ کی بیوی حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے آپ کو غسل دیا، پس باہر آئیں تو موجود…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.