Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حدیث: "شام کا کھانا آجائے تو مغرب کی نماز سے پہلے کھالو۔" کا حوالہ و وضاحت
- Answered by
- مولانا محمد فراز عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4008-WAT
- Issued
- 14 محرم الحرام 1447ء / 10 جولائی 2025ء علم الافتاء اهلسنت
Question
حدیث : "شام کا کھانا آجائے تو مغرب کی نماز سے پہلے کھالو ۔ " کا حوالہ و وضاحت دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا یہ حدیث پاک ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "جب شام کا کھانا حاضر کیا جائے ، تو مغرب کی نماز سے پہلے کھانا کھالو ۔ “ جواب
Answer (beginning)
جی ہاں ! اس مفہوم کی حدیث پاک صحیح بخاری شریف میں موجود ہے ۔ اور یہ حکم اس صورت میں ہے جب بھوک تیز ہو اور نماز کے وقت میں گنجائش ہو۔ حدیث پاک کے اصل الفاظ مع ترجمہ اور حدیث پاک کی شرح درج ذیل ہے : صحیح بخاری میں ہے ”عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه و آله و سلم قال: إذ اقدم العشاء فابدء وابه قبل 99 ان تصلوا صلاة المغرب، ولا تعجلوا عن عشائکم “ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب شام کا کھانا حاضر کیا جائے تو مغرب کی نماز پڑھنے سے پہلے کھانا کھا لو ، اور اپنا کھانا چھوڑ کر نماز میں جلدی مت کرو ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.