Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غیر ذی روح کی تصویر کے سامنے نماز پڑھنے کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد سعید عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4006-WAT
- Issued
- 15 محرم الحرام 1447 هـ / 11 جولائی 2025 ء
Question
غیر ذی روح کی تصویر کے سامنے نماز پڑھنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا کار کی تصویر کے سامنے نماز پڑھ سکتے ہیں؟ جواب
Answer (beginning)
کار کی تصویر کے سامنے نماز پڑھ سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں کہ بے جان کی تصویر سامنے ہونے کی ممانعت نہیں۔ علامہ حسن بن عمار بن علی الشہر نبلالی نماز کے مکروہات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ” ( وأن يكون فوق رأسه أو خلفه أو بين يديه أو بحذائه صورة إلا أن تكون صغيرة) بحيث لا تبدو للقائم إلا بتأمل۔۔۔ (أو) تكون (لغير ذي روح) کالشجرلأنھالا تعبد“ ترجمہ : اور نمازی کے سر کے اوپر ، پیچھے، سامنے یا دائیں بائیں تصویر ہو تو نماز مکروہ ہے) مگر یہ کہ اتنی چھوٹی ہو کہ کھڑے ہو کر دیکھنے پر واضح نہ ہو مگر بہت غور و فکر کے ساتھ ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.