Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دو سوتیلی بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے کا حکم

Answered by
ابوالفیضان مولانا عرفان احمد عطاری مدنی
Fatwa no.
4004-WAT
Issued
15 محرم الحرام 1447 ـ / 11 جولائی 2025 ء علم الافتاء اهلسنت

Question

دو سوتیلی بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا کوئی شخص اپنی بیوی کی موجودگی میں اس کی سوتیلی بہن سے نکاح کر سکتا ہے ؟ یہاں سوتیلی بہن سے مراد یہ ہے کہ دونوں بہنوں کا باپ الگ الگ ہے ، مگر ماں ایک ہی ہے ۔ جواب

Answer (beginning)

قوانین شرعیہ کے مطابق جس طرح دو سگی بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرنا حرام اور سخت گناہ کا کام ہے ، یونہی دو سوتیلی یعنی ماں شریک یا باپ شریک بہنوں کو بھی بیک وقت نکاح میں جمع کرنا، ناجائز و حرام ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : (وَ اَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ) ترجمہ : اور دو بہنیں اکٹھی کرنا حرام ہے ۔ (پارہ 4، سورۃ النساء، آیت (23 تفسیر ابن جزری میں ہے "و أن تجمعوا بين الأختين يقتضي تحريم الجمع بين الأختين سواء كانتا شقيقتين أو لأب أولام “ ترجمہ : اور دو بہنیں اکٹھی کرنا حرام ہے ) آیت کریمہ کا یہ حصہ تقاضا کرتا ہے کہ دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنا حرام ہے چاہے وہ بہنیں سگی ہوں یا باپ شریک یا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.