Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بینڈ باجے بجانے کی نوکری کرنے کا حکم

Answered by
ابوالفیضان مولانا عرفان احمد عطاری مدنی
Fatwa no.
4001-WAT
Issued
13 محرم الحرام 1447 / 09 جولائی 2025 ء

Question

ہینڈ یا ہے بجانے کی نوکری کرنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) بینڈ باجے بجانے کی نوکری کرنا کیسا ہے، کیا ماہانہ تنخواہ حلال ہوگی؟ نیز شادی بیاہ پر بینڈ باجے بجائے ، تو تخواہ پر کیا اثر پڑے گا ؟ جواب

Answer (beginning)

مروجہ انداز میں بجائے جانے والے بینڈ باجے اور ڈھول وغیرہ بجانا، ناجائز و گناہ ہے ، اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہے ، کیونکہ یہ معصیت (گناہ) پر اجارہ کرنا ہے اور گناہ پر اجارہ کرنا بھی گناہ ہے اور اس کام پر جو تنخواہ ملے ، وہ بھی حرام ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " ان الله حرم علیکم الخمر والميسر والكوبة “ ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے تم پر شراب، جوا اور کو بہ (ڈھول) حرام کیا ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.