Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کافر کے یہاں کیئر اسسٹنٹ کی جاب کرنے کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 3999-WAT
- Issued
- 13 محرم الحرام 1447ء / 09 جولائی 2025ء
Question
کافر کے یہاں کیئر اسٹنٹ کی جاب کرنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کافروں کے ہاں کیئر اسٹنٹ کی جاب کرنے کا کیا حکم ہے؟ یہاں کفار ہوتے ہیں اور ان کی دیکھ بھال کے لیے باقاعدہ جاب کی جاتی ہے ، اس میں ان کے پیمپر چینج کرنا، کپڑے تبدیل کروانا وغیرہ سب امور شامل ہوتے ہیں اور عموماً یہ بوڑھے لوگ یا معذور افراد ہوتے ہیں ۔ کیا اسلام اس کی اجازت دیتا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
مسلمان کے لیے کسی کافر کے ہاں کیئر اسٹنٹ کی مذکورہ بالا جاب کرنا شرعاً ممنوع ہے ، کیونکہ کافر کی خدمت گاری کی نوکری کرنا منع ہے اور جس نوکری میں اسلام و مسلم کی ذلت ہو وہ کافر کے ہاں وہ نوکری کرنا منع ہے ، اور سوال میں مذکور معاملات کا فر کی خدمتگاری اور مسلمان کی ذلت پر مشتمل ہیں، لہذا ان کاموں پر کافر کے ہاں نوکری کی ہر گز اجازت نہیں ۔ فتاوی قاضی خان میں ہے ”مسلم آجر نفسه من نصراني إن استأجره لعمل غير الخدمة جاز وإن آجر نفسه للخدمة قال الشيخ الإمام أبو بكر محمد بن الفضل لا يجوز وذكر القدوري رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى أنه يجوز، وتكره له خدمة الکافر “ترجمہ : کسی مسلمان نے خود کو نصرانی کا اجیر…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.