Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بیٹی کو ابھی جہیز نہیں دیا تو اس کی وجہ سے باپ غنی شمار ہوگا یا نہیں؟

Answered by
مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
Fatwa no.
3994-WAT
Issued
11 محرم الحرام 1447ھ / 07 جولائی 2025ء

Question

بیٹی کو ا بھی جہیز نہیں دیا تو اس کی وجہ سے باپ غنی شمار ہوگا یا نہیں ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص ہے جس کے پاس سونا چاندی رقم وغیرہ کچھ نہیں ہے صرف گھر میں اپنی ضرورت کا سامان ہے ، لیکن اس کے پاس اپنی بیٹی کے جہیز کے لیے خریدا ہوا سامان موجود ہے جو اس نے دینا ہے ، ابھی تک بیٹی کی شادی نہیں ہوئی ، کیا ایسا شخص زکاۃ لے سکتا ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

دریافت کی گئی صورت میں اس شخص نے جہیز کے سامان کا اگر بیٹی کو ابھی تک مالک نہیں کیا تو وہ اسی کی ملکیت میں ہے ، ایسی صورت میں اگر اس پر قرض نہیں ہے اور اگر ہے تو اس کو مائنس کرنے اور حاجت اصلیہ نکالنے کے بعد اس سامان کی قیمت تنہا یا دیگر اموال و سامان کے ساتھ مل کر کم از کم ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو، تو وہ زکوۃ نہیں لے سکتا ۔ یا مال نصاب کے برابر نہیں ہے لیکن وہ ہاشمی یا سید ہے ، تب بھی زکوۃ نہیں لے سکتا۔ در مختار میں ہے ”تجب۔۔۔ علی کل۔۔۔ مسلم ۔۔۔ ذی نصاب فاضل عن حاجته الأصلية. وإن لم ينم ------ بهذا النصاب تحرم الصدقة۔۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.