Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بنیان پہن کر نماز پڑھنے کا حکم
- Answered by
- مولانا اعظم عطاری مدنی دام الافيا اهلسنت
- Fatwa no.
- 3991-WAT
- Issued
- 11 محرم الحرام 1447 / 07 جولائی 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)
Question
بنیان پہن کر نماز پڑھنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) گرمی کی وجہ سے صرف بنیان پہن کر نماز پڑھنا کیسا؟ جواب
Answer (beginning)
کپڑے موجود ہوتے ہوئے صرف بنیان میں نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی یعنی نا پسندیدہ عمل ہے کیونکہ ہر ایسے لباس میں نماز پڑھنا جسے پہن کر بندہ معزز لوگوں کے پاس نہ جا سکے مکروہ تنزیہی ہے لہذا صاف ستھرے اور پورے کپڑے پہن کر نماز پڑھی جائے ۔ در مختار میں ہے ” ( وصلاته في ثياب بذلة ) يلبسها في بيته ( ومهنة) أي خدمة ان له غيرها “ ترجمہ : گھر کے کام کاج والے کپڑوں میں جنہیں گھر میں پہنتا ہے یا نوکری و ملازمت کے کپڑوں میں نماز مکروہ ہے ، اگر ان کے علاوہ دوسرے کپڑے اس کے پاس موجود ہوں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.