Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد کھڑا ہونے پر لقمے کا حکم

Answered by
ابوالفیضان مولانا عرفان احمد عطاری مدنی دام الافيا اهلسنت
Fatwa no.
3988-WAT
Issued
08 محرم الحرام 1447 ھ / 04 جولائی 2025ء

Question

قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد کھڑا ہونے پرلنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) امام نے مغرب کی نماز میں قعدہ اخیرہ میں صرف تشہد پڑھا، پھر کھڑا ہونے لگا، توامام کو پیچھے سے مقتدیوں نے لقمہ دیا، کیا اسے لقمہ لینا چاہئے یا نہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں امام کو لقمہ لینا چاہیے ، کیونکہ مقتدی کا لقمہ بر محل تھا کہ اس صورت میں تو پورا کھڑا ہو جانے کے بعد بھی لقمہ دینے کی اجازت ہے تو کھڑے ہوتے وقت لقمہ دینا بدرجہ اولی جائز ہوگا کہ اس میں ترک واجب سے بچانا ہے۔ نور الایضاح میں ہے "ولو۔۔۔ قام بعد القعود الاخير ساهيا لا يتبعه المؤتم وان قیدها سلم وحده “ ترجمہ : اور اگر امام قعدہ اخیرہ کے بعد بھول کر کھڑا ہو گیا تو مقتدی اس کی اتباع نہیں کرے گا اور اگر اس نے رکعت کو سجدہ کے ساتھ مقید کر دیا تو کیلیے سلام پھیر دے گا ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.