Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
محلے کی مسجد میں جماعت ہو جائے تو کہاں نماز پڑھنا افضل ہے؟
- Fatwa no.
- 3985-WAT
- Issued
- 07 محرم الحرام 1447هـ / 03 جولائی 2025. DaruliftaAhlesunnat
Question
محلے کی مسجد میں جماعت ہو جائے تو کہاں نماز پڑھنا افضل ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر محلے کی مسجد میں جماعت ہو جائے تو پھر بھی مسجد میں نماز پڑھنا افضل ہے یا گھر میں ؟ جواب
Answer (beginning)
مسجد محلہ میں جماعت ہو جائے تو مرد کے لیے دوسری مسجد میں باجماعت نماز پڑھنا افضل ہے اور اگر دوسری مسجد میں بھی جماعت نہ ملے یا دوسری مسجد ہی نہ ہو تو اس کے لیے گھر کی بنسبت محلہ ہی کی مسجد میں نماز پڑھنا افضل ہے ۔ حلبی صغیر ی میں ہے ”و ان فاتته الجماعة في مسجد حیه فان اتی مسجدا آخریدرکھافیہ فھوافضل۔۔۔ وان لم يدرك الجماعة في مسجد آخر فمسجد حیه اولی“ ترجمہ : اگر محلے کی مسجد کی جماعت فوت ہو جائے تو اگر دوسری مسجد ایسی ہے جس میں جماعت مل جائے گی تو وہ افضل ہے اور اگر دوسری مسجد میں جماعت نہ ملے تو محلے کی مسجد اولی ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.