Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسجد کے صحن پر چھت ڈال کر مدرسہ بنانا

Answered by
مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
Fatwa no.
3983-WAT
Issued
07 محرم الحرام 1447 / 03 جولائی 2025ء

Question

مسجد کے صحن پر چھت ڈال کر مدرسہ بنانا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا مسجد کے صحن پر چھت ڈال کر مدرسہ بنا سکتے ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

مسجد کا صحن مسجد ہی کا حصہ ہوتا ہے اور جو جگہ مسجد ہو چکی، وہ زمین سے آسمان تک مسجد ہے ، اور اب اس جگہ پر یا اس کی چھت پر مدرسہ نہیں بنایا جاسکتا کہ یہ وقف میں تبدیلی ہے جو کہ جائز نہیں۔ در مختار میں ہے " (و) کرہ تحریما (الوطء فوقه، والبول والتغوط) لانه مسجد الی عنان السماء "ترجمہ : مسجد کی چھت پر جماع کرنا ، پیشاب اور پاخانہ کرنا مکروہ ہے اس لیے کہ وہ آسمان دنیا تک مسجد ہے ۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 1، صفحه 656، مطبوعہ دارالفکر، بیروت) در مختار میں ہے "لوبنی فوقه بیتاللا مام لا يضر لانه من المصالح، أما لو تمت المسجدية ثم أراد البناء منع ولوقال عنيت ذلك لم يصدق.

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.