Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دورانِ نماز جیب سے موبائل نکال کر ٹارچ آن کرنا

Answered by
مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
Fatwa no.
3977-WAT
Issued
05 محرم الحرام 1447 هـ / 01 جولائی 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)

Question

دوران نماز جیب سے موبائل نکال کر ٹارچ آن کرنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص بھجلی بند ہونے کی صورت میں باجماعت نماز کے دوران موبائل جیب سے نکال کر اس کی روشنی چلا کر رکھ دے ، تو کیا حکم ہے؟ جواب

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اگر وہ شخص نماز پڑھ رہا تھا اور نماز پڑھتے ہوئے اس نے جیب سے موبائل نکال کر اس کا ٹارچ جلا کر رکھا، تو اس کی نماز ٹوٹ گئی، کیونکہ یہ عمل کثیر ہے کہ ایسا کرنے والے کو دور سے دیکھنے والا یہی سمجھے گا کہ یہ نماز میں نہیں ہے اور اس عمل کا تعلق نہ نماز کے اعمال سے ہے اور نہ یہ اصلاح نماز کے لیے کیا گیا ہے اور ہر ایسا عمل کثیر کہ جس کا تعلق نہ نماز کے اعمال سے ہو اور نہ وہ اصلاح نماز کے لیے کیا گیا ہو ، اس کے کرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.