Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مبین نام کا مطلب اور مبین نام رکھنے کا حکم
- Answered by
- ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
- Fatwa no.
- 3975-WAT
- Issued
- 05 محرم الحرام 1447 ھ / 01 جولائی 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)
Question
بچے کا نام "مبین " رکھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا "مبین " نام کسی بچے کا رکھنا درست ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
بچے کا نام "مبین "رکھنا فقط درست ہی نہیں بلکہ اچھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام "مبدین " ہے ۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ اولا بیٹے کا نام صرف محمد رکھیں، کیونکہ حدیث پاک میں نام "محمد " رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام "محمد " رکھنے کی ہے ، اور پھر پکارنے کے لیے ”مبین“ یا "غلام مبین " رکھ لیجیے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.