Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کپڑے سے بچے کا پیشاب دھو دیا لیکن بُو نہیں گئی تواس کا حکم

Answered by
مولانا اعظم عطاری مدنی
Fatwa no.
3973-WAT
Issued
04 محرم الحرام 1447 هـ / 30 جون 2025. عالم الان الملتت

Question

کپڑے سے بچے کا پیشاب دھو دیا لیکن ہو نہیں گئی تو اس کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کسی خاتون کے بچوں نے پیشاب کیا اور اس نے کپڑا فورا نہیں دھویا اور وہ سوکھ گیا، اس عورت نے نلکے کے نیچے جاری پانی سے یقین آنے تک اچھے سے دھویا لیکن تب بھی اس کی بو نہیں گئی (کیوں کہ سوکھنے کے بعد پیشاب کے کپڑے کو اگر دھویا جائے تو اس کی مہک بہت مشکل سے جاتی ہے ) تو کیا وہ کپڑا پاک ہو گیا ؟ جواب

Answer (beginning)

صورت مسئولہ میں وہ کپڑا پاک ہے اس لئے کہ اگر شرعی طریقے کے مطابق پانی سے کپڑا اچھی طرح دھو لیا ہو تو وہ پاک ہو جاتا ہے اور اس کا وہ اثر ( یعنی رنگ و بو) جس کا دور کرنا دشوار ہو وہ معاف ہوتا ہے ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے ”وإن كانت شيئا لا يزول أثره إلا بمشقة بأن يحتاج في إزالته إلى شيء آخر سوى الماء كالصابون لا يكلف بإزالته “ ترجمہ : اگر وہ ایسی نجاست تھی کہ جس کا اثر زائل نہیں ہوتا مگر مشقت سے بایں طور کہ اس کو دور کرنے میں پانی کے علاوہ کسی اور چیز مثلاً صابون کی ضرورت ہو تو وہ اس کو دور کرنے کا مکلف نہیں ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.