Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نہاتے وقت غسل خانے میں پیشاب کرنے کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی دام الافيا اهلسنت
- Fatwa no.
- 3972-WAT
- Issued
- 04 محرم الحرام 1447ھ / 30 جون 2025ء
Question
نہاتے وقت غسل خانے میں پیشاب کرنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) نہاتے وقت اگر پیشاب کی حاجت ہو جائے، تو کیا غسل خانے میں ایک سائیڈ پہ پیشاب کیا جا سکتا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
اگر غسل خانے کی زمین کچی ہو اور پانی نکلنے کا صحیح نظام نہ ہو تو اس صورت میں وہاں پیشاب کرنا منع ہے کہ نیچے جمع شدہ پانی ناپاک ہو جائے گا ، اور پھر وہاں غسل کرنے یا وضو کرنے سے یہ ناپاک پانی بدن و غیرہ پر پڑے گا ۔ ہاں! اگر غسل خانے کی زمین پکی ہو اور پانی نکلنے کا صحیح راستہ بھی ہو تو وہاں احتیاط سے پیشاب کرنے میں کوئی حرج نہیں ، اگر چہ بہتر ہے کہ نہ کرے ۔ سنن ابی داؤد میں ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمايا : "لايبولن احدكم في مستحمه ثم يغتسل فيه قال احمد: ثم يتوضا فيه، فإن عامة الوسواس منه "ترجمہ : تم میں سے کوئی ہر گز غسل خانہ میں پیشاب نہ کرے ، پھر اس میں…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.