Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عدت کے دوران گھرکے کام، وعظ وبیان اور بچیوں کو پڑھانا

Question

عدت کے دوران گھر کے کام ، وعظ و بیان اور بچیوں کو پڑھانا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) عدت کے دوران عورت اپنے گھر میں خطاب کر سکتی ہے یا نہیں، نیز نا بالغ بچوں اور بچوں کو پڑھا سکتی ہے یا نہیں ؟ نیز عدت کے دوران گھر کے کام کاج کر سکتی ہے یا نہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

عدت کے دوران عورت اپنے گھر میں ہی شرعی حدود میں رہ کر عورتوں کو خطاب کر سکتی ہے ، اور نابالغ بچے ، بچیوں کو بھی پڑھا سکتی ہے ، اور گھر کے کام کاج بھی کر سکتی ہے کیونکہ عدت میں عورت پر جن شرعی احکامات کی پابندی لازم ہے ، یہ ان میں سے نہیں ہیں ۔ عدت میں بغیر کسی صحیح مجبوری کے گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوتی اور طلاق بائن یا موت کی عدت ہو تو زینت و سنگار کی اجازت نہیں ہوتی ، جبکہ گھر میں رہتے ہوئے گھر کے کام کاج کرنے ، بچے بچیوں کو پڑھانے اور خطاب و بیان کرنے میں ان میں سے کسی پابندی کی خلاف ورزی نہیں ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.