Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دوسری جماعت کے لئے اقامت کہنا
- Answered by
- مولانا محمد سعید عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 3970-WAT
- Issued
- 02 محرم الحرام 1447 هـ / 28 جون 2025ء
Question
دوسری جماعت کے لئے اقامت کہنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) دوسری جماعت کے لئے اذان واقامت کہی جائے گی یا نہیں ؟ جواب
Answer (beginning)
دوسری جماعت کے لئے اعادہ اذان ناجائز ہے ، اقامت کہنے میں کوئی حرج نہیں ۔ فتاوی رضویہ میں سوال ہوا کہ "جماعت ثانیہ میں اقامت کہی جائے یا نہیں اور جماعت ثانیہ میں امام کو زور سے جہری نماز میں قرآت کرنی چاہئے یا جماعت اولی کے لوگ جو سنتیں پڑھ رہے ہوں ان کے خیال سے برائے نام آواز سے پڑھے تاکہ دوسروں کی نماز میں ذہن نہ منتقل ہو ؟ “ اس کے جواب میں فرمایا : "جماعت ثانیہ کے لئے اعادہ اذان ناجائز ہے تکبیر میں حرج نہیں اور اس کا امام نماز جہری میں بقدر حاجت جماعت جہر کرے گا اگر چہ اور لوگ سنتیں پڑھتے ہوں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.