Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اسپیکر بیچنے کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 3963-WAT
- Issued
- 01 محرم الحرام 1447ھ / 27 جون 2025ء
Question
اسپیکر بیچنے کا حکم دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اسپیکر بیچنا جائز ہے یا نہیں ؟ میری دکان پر بلو ٹوتھ والے اور کارڈ والے ہر طرح کے اسپیکر موجود ہیں تو کیا انہیں بیچنا درست ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
اسپیکر بیچنا جائز ہے کہ اسپیکر کے جائز و ناجائز دونوں استعمالات ہیں، خرید نے والا مختار ہے ، یہ اب اس پر ہے کہ وہ اس کو کس طور پر استعمال کرتا ہے ، وہ اگر اسے ناجائز طور پر استعمال کرے تو اس کا ذمہ دار وہ خود ہے ۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى ترجمہ کنز الایمان : اور کوئی بوجھ اُٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہ اُٹھائے گی ۔ (پارہ 22، سورۃ فاطر ، آیت نمبر 18) مذکورہ آیت مبارکہ کے تحت مفسر قرآن مفتی محمد قاسم عطاری دامت برکا تہم العالیہ تحریر فرماتے ہیں : آیت کے اس حصے کا معنی یہ ہے کہ قیامت کے دن ہر ایک جان پر اسی کے گناہوں کا بوجھ ہو گا جو اُس نے کئے ہیں اور…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.