Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کسی آدمی کی وجہ سے کوئی چیز حرام کردی جانے کے متعلق حدیث کی وضاحت

Question

کسی آدمی کی وجہ سے کوئی چیز حرام کر دی جانے کے متعلق حدیث کی وضاحت دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اس حدیث پاک کی وضاحت فرمادیں : سب سے بڑا مجرم وہ مسلمان ہے جس نے کسی ایسی چیز کے متعلق پوچھا جو حرام نہیں تھی اور اس کے سوال کرنے کی وجہ سے وہ حرام کر دی گئی ۔ " جواب

Answer (beginning)

(1) بہت سی باتیں ایسی ہیں کہ قرآن وحدیث میں ان کو کرنے کا حکم یا ان سے ممانعت بیان نہیں ہوئی لیکن اگر ان کو کرنے کا حکم دیا جاتا تو فرض ہو جاتیں اور اگر ممانعت کی جاتی تو حرام ہو جاتیں ، پھر جو انہیں چھوڑتا یا کرتا توگناہ میں پڑھتا ، لہذا لوگوں کو مشقت سے بچاتے ہوئے ان کے متعلق کچھ بھی بیان نہیں ہوا اور پھر لوگوں کو بھی حکم دے دیا گیا کہ ان کے متعلق کچھ نہ پوچھو کہ پوچھو گے تو پھر ان کے مناسب حکم دیا جائے گا اور تم مشقت میں پڑو گے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.