Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مرد اپنی ساری کمائی عورت کے حوالے کردیتا ہو تو قربانی کس پر لازم ہوگی؟

Answered by
مولانا محمد سعید عطاری مدنی
Fatwa no.
3957-WAT
Issued
27 ذو الحجۃ الحرام 1446 هـ /24 جون 2025 ء

Question

مرد اپنی ساری کمائی عورت کے حوالے کر دیتا ہو تو قربانی کس پر لازم ہوگی ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے یہاں مرد جو کماتا ہے اور جتنا پیسہ ملتا ہے ، وہ سارا گھر خرچ کے لیے اپنی زوجہ کو دے دیتا ہے، تو مجھے یہ پوچھنا ہے کہ پھر قربانی کس کے نام سے ہوگی؟ مرد کے نام سے یا اس کی زوجہ کے ؟ کیوں کہ سارا پیسہ تو بیوی کے پاس ہے تو مالک نصاب کون ہوگا ؟ مہربانی فرمائے جلد جواب عنایت فرمائیں اور شکریہ کا موقع دیں ۔ جواب

Answer (beginning)

عموماً مرد حضرات اپنی گھر والیوں کو گھر خرچ کے لیے جو پیسے دیتے ہیں، وہ اس کا مالک نہیں بناتے بلکہ گھر یلو اور ضروری اخراجات کے لئے دیتے ہیں، ایسی صورت میں جو رقم اخراجات سے بچ جائے وہ شوہر کی ملک ہوگی، اور اس رقم کی وجہ سے شرافظ کی موجودگی میں قربانی شوہر پر ہی لازم ہوگی، لہذا وہ اپنے نام سے قربانی کرے گا ۔ اور اگر عورت کے پاس اس کے علاوہ کوئی نصاب نہ ہو تو اس پر قربانی لازم نہیں ہوگی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.