Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جنون کی حالت میں جو نمازیں رہ گئیں، ان کے فدیہ کا حکم

Question

جنون کی حالت میں جو نماز میں رہ گئیں ، ان کے فدیہ کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) میری خالہ 60 سال تک مسلسل نمازیں پڑھتی رہی ہیں ، پھر اس کے بعد ان کا چودہ (14) ماہ ذہنی توازن درست نہ رہا یعنی وہ جنون کی حالت میں رہیں اور وفات تک وہ اسی حالت میں رہیں اور ابھی فوت ہو گئی ہیں، تو ہم ان کی 14ماہ کی نمازوں کا فدیہ کیسے دیں؟ جواب

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اگر آپ کی خالہ 14 ماہ مسلسل جنون ( پاگل پن) کی حالت میں ہی رہیں اور ان کو کبھی بھی افاقہ نہ ہوا، تو ان کی قضا شدہ نمازوں پر فدیہ نہیں ہے، کیونکہ جب کسی شخص کو جنون ( پاگل پن ) لاحق ہو اور وہ مسلسل پانچ نمازوں سے زیادہ کا وقت گھیر لے اور اس دوران اس کو افاقہ نہ ہو، تو اس شخص پر اس دوران قضناشدہ نمازوں کی قضا لازم نہیں ہوتی اور جب تک یہ جنون رہے ، اس وقت تک کی نمازیں اس سے معاف ہوتی ہیں، لہذا جب ان سے نمازیں معاف ہیں ، تو ان نمازوں کا فدیہ بھی نہیں ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.