Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مٹی یا ریت آنکھ میں جانے کی وجہ سے نکلنے والے پانی کا حکم
- Fatwa no.
- 3955-WAT
- Issued
- 27 ذوالحجۃ الحرام 1446ھ /24 جون 2025ء
Question
مٹی یا ریت آنکھ میں جانے کی وجہ سے نکلنے والے پانی کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) راستے میں چلتے پھرتے مٹی یا ریت آنکھ میں چلی جائے اور اس کی وجہ سے آنکھ میں پانی آجائے ، تو کیا وہ نجاست غلیظہ ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
مٹی یا ریت آنکھ میں چلی جائے ، تو اس کی وجہ سے آنکھ سے نکلنے والا پانی نجس نہیں ہے اور نہ اس کی وجہ سے وضو ٹوٹے گا، کیونکہ آنکھ سے نکلنے والا وہ پانی ناقض وضو اور نجس ہوتا ہے جو کسی آنکھ کی بیماری یا آنکھ میں زخم کی وجہ سے بہہ کر نکلے ، جبکہ ریت یا مٹی جانے کی وجہ سے آنکھوں سے نکلنے والا پانی کسی بیماری یا زخم کی وجہ سے نہیں نکلا، لہذا یہ نجس اور ناقض وضو بھی نہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.