Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

انگوٹھی کے حمل پر اثرات سے متعلق تفصیل

Answered by
مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
Fatwa no.
3953-WAT
Issued
26 ذوالحجۃ الحرام 1446 هـ / 23 جون 2025ء

Question

انگوٹھی کے عمل پر اثرات سے متعلق تفصیل دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا گھر میں کسی کے ہاتھ میں انگوٹھی ہونے سے عمل پر کچھ اثر ہوتا ہے ؟ گھر والے سب کو منع کر رہے ہیں کہ کوئی بھی چاندی کی یا کسی اور دھات کی انگوٹھی نہ پہنے کہ اس سے حمل میں نقصان ہوگا ۔ اس کی کیا حقیقت ہے؟ جواب

Answer (beginning)

حمل کے دوران عورت خود یا اس گھر کا کوئی فرداگر شریعت کے مطابق جائزا نگوٹھی پہنا چاہے ، تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں، نیز اسے حمل کے لیے براگمان کرنا اور یہ سمجھنا کہ اس کی وجہ سے حمل کو نقصان ہوگا، اس کی کوئی حقیقت نہیں ، یہ محض بدشگونی ہے اور بد شگونی لینا منع ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”لا طيرة ترجمہ : بد شگونی کوئی چیز نہیں ۔ (صحیح بخاری، جلد 5، صفحہ 2171، حدیث 5425، مطبوعہ: دمشق) نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”لیس منا من تطیر “ ترجمہ : جس نے بدشگونی لی، وہ ہم میں سے نہیں ( یعنی ہمارے طریقے پر نہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.