Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کئی سال بعد مہر ادا کرنے میں کس ریٹ کا اعتبار ہوگا؟
- Fatwa no.
- 3949-WAT
- Issued
- 24 ذوالحجۃ الحرام 1446 هـ / 21 جون 2025 ء
Question
کئی سال بعد مہر ادا کرنے میں کس ریٹ کا اعتبار ہوگا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) میری شادی 1998 میں ہوئی تھی اور اس وقت میری بیوی کی حق مہر کی رقم گیارہ ہزار روپے قرار پائی تھی مگر لا پرواہی و ستی کی وجہ سے وہ ادا نہیں کر سکا لیکن میں اب اپنی بیوی کو وہ رقم دینا چاہتا ہوں، میری شادی کو تقریب ستائیس سال ہو چکے ہیں، پوچھنا یہ تھا کہ مجھے وہی رقم گیارہ ہزار ادا کرنا ہوگی یا زائد رقم ادا کرتا ہوگی؟ جواب
Answer (beginning)
شریعت مطہرہ میں مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم یعنی دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی یا اس کی قیمت ہے اور زیادہ کی کوئی حد نہیں ، جتنا بھی مقرر کر دیا جائے لازم ہوگا۔ نیز اس میں اعتبار وقت عقد کا ہے ، لہذا وقت عقد جو مہر مقرر ہوا، وہ دس درہم یا اس سے زیادہ قیمت کا ہو، تو وہی لازم ہوگا، مہنگائی کی وجہ سے اس میں زیادتی نہیں ہوگی ۔ اور صورتِ مسئولہ میں بوقت نکاح مہر میں مقرر کی گئی رقم چوں کہ اس وقت دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی کی قیمت سے زیادہ تھی ، لہذا آپ پر وہی گیارہ ہزار ہی دینا ضروری ہے ، مہنگائی یا زیادہ عرصہ ہونے کی وجہ سے آپ پر اپنی بیوی کو مقرر کردہ مہر سے زیادہ دینا ضروری نہیں ہے ، البتہ !…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.