Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

امام کے سجدہ سہو کرنے کے دوران جماعت میں شامل ہونا

Answered by
مولانا محمد نور المصطفی عطاری مدنی
Fatwa no.
3947-WAT
Issued
24 ذوالحجۃ الحرام 1446 هـ / 21 جون 2025 ء

Question

امام کے سجدہ سہو کرنے کے دوران جماعت میں شامل ہونا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) امام اگر سجدہ سہو کر رہا ہو تو کیا نیا آنے والا نمازی جماعت کے ساتھ شامل ہو سکتا ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

امام اگر سجدہ سہو کر رہا ہو تو آنے والا شخص بھی جماعت میں شامل ہوسکتا ہے، کیونکہ امام ابھی تک حرمت نماز میں ہے ۔ بسوط سرخسی میں ہے " فان سھا الامام فی صلاتہ فسجد للسهوثم اقتدی به رجل في القعدة التي بعدها صح اقتداءه ، لان الإمام في حرمة الصلوة بعد "ترجمہ : اگر امام سے نماز میں بھول ہوئی پھر اس نے سجدہ سہو کیا پھر کسی آدمی نے اس (امام) کی اُس قعدہ میں اقتدا کی جو سجدہ سہو کے بعد ہوتا ہے تو اس آدمی کی اقتدا درست ہے ، کیونکہ امام ابھی تک حرمتِ نماز میں ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.