Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عیدگاہ کی طرف جاتے ہوئے تکبیرات کہنے کا حکم

Answered by
مولانا محمد سعید عطاری مدنی
Fatwa no.
3944-WAT
Issued
23 ذوالحجۃ الحرام 1446 هـ / 20 جون 2025ء

Question

عید گاہ کی طرف جاتے ہوئے تکبیرات کہنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) عید گاہ کی طرف جاتے ہوئے تکبیرات کہنا واجب ہے یا مستحب ؟ راہنمائی فرما دیں ۔ جواب

Answer (beginning)

عید گاہ کی طرف جاتے ہوئے تکبیرات کہنا واجب نہیں ہے بلکہ مستحب ہے کہ عید الا ضحی کے موقع پر بلند آواز سے اور عید الفطر کے موقع پر آہستہ آواز سے تکبیرات کہتا ہوا عید گاہ کی طرف جائے ۔ فتاوی ہندیہ میں ہے "ويكبر في الطريق في الأضحى جهرا يقطعه إذا انتهى إلى المصلى وهو المأخوذ به وفي الفطر المختار من مذهبه أنه لا يجھر۔۔۔ کذا في الغياثية أماسرا فمستحب، كذافي الجوهرة النيرة" ترجمہ : عید الاضحی میں راستے میں بلند آواز سے تکبیر کہے اور جب عید گاہ پہنچ جائے تو رک جائے ، اسی کو عمل کے لئے لیا گیا ہے ، اور عید الفطر میں امام اعظم کے مختار موقف کے مطابق بلند آواز سے تکبیر نہ کہے ، اسی طرح غیاشیہ میں ہے ،…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.