Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جمعہ یا ہفتہ کے دن قضا روزے رکھنا
- Answered by
- مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 3937-WAT
- Issued
- 19 ذوالحجۃ الحرام 1446ھ / 16 جون 2025ء
Question
جمعہ یا ہفتہ کے دن قضا روزے رکھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) میں ایک اسکول میں ٹیچر کی جاب کرتی ہوں اور پیر سے جمعرات میری ڈیوٹی ہے ، تو کیا میں جمعے اور ہفتے کے دن ، ماه رمضان المبارک کے عذر کی وجہ سے قضا ہو جانے والے روزے رکھ سکتی ہوں ؟ جواب
Answer (beginning)
رمضان المبارک کے جو روزے قضا ہو گئے ہوں ، وہ رمضان کے بعد ، سال میں جن دنوں میں روزہ رکھنے کی ممانعت ہے ( یکم شوال کا دن اور دس ذوالحجہ سے تیرہ ذوالحجہ تک کے دن) ان کے علاوہ کسی بھی دن رکھے جاسکتے ہیں ، لہذا ان تاریخوں کے علاوہ میں جو ہفتے اور جمعے کے دن آئیں ، ان میں بھی رکھے جاسکتے ہیں کہ جمعے اور ہفتے کے دن قضا روزے رکھنے کی کوئی ممانعت نہیں ہے اور ہفتے میں صرف دو دن بھی قضا روزے رکھ سکتے ہیں کہ قضا روزے مسلسل رکھنا لازم و ضروری نہیں ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.