Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

فقیر نے قربانی کے لئے جانور خریدا اور وہ چوری ہوگیا

Answered by
مولانا محمد نور المصطفی عطاری مدنی
Fatwa no.
3935-WAT
Issued
19 ذوالحجۃ الحرام 1446هـ / 16 جون 2025 ء

Question

فقیر نے قربانی کے لئے جانور خریدا اور وہ چوری ہو گیا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی مسلمان ، عاقل، بالغ ، صاحب نصاب نہیں ہے لیکن اپنی خوشی سے جیسے بھی کر کے قربانی کا جانور خرید لیتا ہے ، اور پھر عید سے دو دن پہلے اس کا جانور چوری ہو جاتا ہے تو اب وہ کیا کرے ؟ جواب

Answer (beginning)

اگر فقیر نے قربانی کی نیت سے جانور خریدا، پھر عید سے پہلے وہ چوری ہو گیا، تو اس پر دوسرا جانور خرید کر قربانی کرنا واجب نہیں ہے ۔ بدائع الصنائع میں ہے " و إن كان معسرا فاشترى شاة للأضحية فهلكت في أيام النحر أو ضاعت سقطت عنه وليس عليه شيء آخر لما ذكرنا أن الشراء من الفقير للأضحية بمنزلةالنذر فإذا هلكت فقد هلك محل إقامة الواجب فيسقط عنه "ترجمہ : اگر کسی فقیر نے قربانی کے لیے بکری خریدی ، اور وہ ایام نحر میں بلاک ہو گئی یا گم ہو گئی ہو تو اس سے قربانی ساقط ہو جائے گی، اور اس پر کچھ لازم نہیں آئے گا؛ کیونکہ ہم نے ذکر کیا ہے کہ فقیر کی طرف سے قربانی کے لیے جانور خرید نا بمنزلہ نذر کے ہوتا ہے ، تو…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.