Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

گورنمنٹ کا مال دھوکے سے حاصل کرکے مسجد میں لگانے کا حکم

Answered by
مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
Fatwa no.
3934-WAT
Issued
21 ذوالحجۃ الحرام 1446ھ / 18 جون 2025ء

Question

گورنمنٹ کا مال دھو کے سے حاصل کر کے مسجد میں لگانے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) میرا ایک مقتدی سرکاری گاڑی (ایمبولینس چلاتا ہے ، اس کی بیٹی کچھ خراب ہوئی ہے ، جو کہ گاڑی کا کام نہیں دے رہی، اب میرا مقتدی بیٹری مسجد کے لیے فری دے رہا ہے جبکہ ان کا طریقہ یہ ہے کہ ایسی بیٹری کو وہ جمع کرتے ہیں اور گاڑی کے لیے نئی بیٹری لیتے ہیں ، اس نے کہا کہ آپ مجھے کہیں سے ایک پرانی سستی بیری خرید کر دے دیں تاکہ میں اس کو دفتر میں جمع کرلوں ۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس بیٹری کو مسجد میں استعمال کر سکتے ہیں اور اس کے بدلے سستی بیٹری خرید کر دے سکتے ہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

دریافت کی گئی صورت میں سرکاری گاڑی کی بیڑی لے کر مسجد میں لگانا اور اس کی جگہ پرانی ستی بیٹری دفتر میں جمع کروانا جائز نہیں ہے کہ یہ دھو کے اور جھوٹ کے ساتھ گورنمنٹ کا مال حاصل کر کے اس کو مسجد میں دینا ہے کہ جو کہ ناجائز وگناہ ہے ۔ صحیح مسلم میں ہے "من غش فليس مني "ترجمہ : جو دھوکہ دے وہ مجھ سے نہیں ۔ (صحیح مسلم، ج 1، ص 99، حدیث 102 ، داراحیاء التراث العربی، بیروت) علامہ عبدالرؤوف مناوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (متوفی 1031ھ) فیض القدیر میں فرماتے ہیں : "الغش ستر حال الشيء "ترجمہ : دھوکہ کا مطلب ہے کسی چیز کی اصلی حالت کو چھپانا ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.