Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دودھ دینے والے جانور کی قربانی کا حکم

Answered by
مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
Fatwa no.
3929-WAT
Issued
20 ذوالحجۃ الحرام 1446هـ / 17 جوان 2025ء

Question

دودھ والے جانور کی قربانی کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر دودھ دینے والے جانور کی قربانی کر دیں، تو کوئی مسئلہ تو نہیں ہو گا ؟ جواب

Answer (beginning)

دودھ دینے والا جانور اگر قربانی کی شرائط پر پورا اترتا ہو، تو اس کی قربانی ہو جائے گی، لیکن دودھ دینے والے جانور کی قربانی نا پسندیدہ ہے ۔ سنن ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لا تذبحن ذات در ترجمہ : دودھ والے جانور کو ہر گز ذبح نہ کرنا ۔ (سنن ترمذی، جلد 4، صفحہ 583، حدیث 2369، مطبوعہ مصر) فیض القدیر میں ہے " (ذات در ) اي لبن ندبا او إرشادا "ترجمه : ذات در سے مراد دودھ والا جانور ہے اور یہ استحبابی یا ارشادی ( یعنی ایک اچھے مشورے کے طور پر) حکم ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.