Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرض کی رقم مقروض تک پہنچانے کی اجرت کس پر ہوگی؟
- Fatwa no.
- 3926-WAT
- Issued
- 16 ذوالحجۃ الحرام 1446ھ / 13 جون 2025 ء
Question
قرض کی رقم مقروض تک پہنچانے کی اجرت کس پر ہوگی ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) قرض کی رقم مقروض تک پہنچانے کی اجرت کس پر ہے ؟ یعنی اگر با ہر ملک سے کوئی شخص پیسے بطور قرض بیجے تو اس بھیجنے پر و پیسے لگیں گے وہ آیا قرض خواہ پر ہی ہوں گی یا مقروض سے ان کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
دریافت کی گئی صورت میں پیسے بھیجنے کی اجرت اسی پر لازم ہوگی جو یہ رقم ارسال کروائے گا، کہ وہی عقد اجارہ کرنے والا ہے تو اجرت بھی اسی پر لازم ہوگی ، مقروض سے اس کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا ۔ سیدی امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمہ اللہ سے سوال ہوا، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قرض خواہ نے قرصہ کی وصولی کے لیے اجیر رکھا تو کیا اس اجیر کی اجرت کا قرضداروں سے مطالبہ کر سکتا ہے ؟ تو اس کے جواب میں آپ نے فرمایا : " یہ نوکر اسی شخص کا نوکر اور اسی کے کام پر مقرر، اس نے خود ہی اسے اپنے کام کے لئے رکھا، تو نخواہ یا خوراک جو کچھ ٹھہری ہو اسی پر ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.