Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حجام کو دکان کرایہ پر دینا
- Answered by
- مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 3924-WAT
- Issued
- 16 ذوالحجۃ الحرام 1446 هـ / 13 جوان 2025 ء
Question
حجام کو دکان کرایہ پر دینا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ایک دکان ہے جو کرائے پر نائی کو دی گئی ، اس دکان میں گاہک داڑھی منڈوانے بھی آتے ہیں اور نائی ان لوگوں کی داڑھی بھی مونڈتا ہے تو ایسے نائی کو کرائے پر دکان دینا کیسا ؟ جواب
Answer (beginning)
نائی کو کرائے پر دکان دینا جائز ہے ، جبکہ نائی کی دکان پر ہونے والے ناجائز کام جیسے داڑھی مونڈ نا یا ایک مشت سے کم کرنا وغیرہ کاموں پر مدد کی نیت نہ ہو ، صرف کرائے پر دکان دینے سے ہی غرض ہو کیونکہ دوکان کرائے پر دینا اپنی ذات میں کوئی گناہ کا کام نہیں ، اب آگے کرائے پر لینے والا اگر اس میں کوئی گناہ کا کام کرتا ہے تو اس کا ذمہ دار وہ خود ہے ، کرائے پر دینے والا اگر اس کے گناہ پر مدد کی نیت نہ کرے تو اس پر اس کا گناہ نہیں آئے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.