Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بچہ ختنہ شدہ پیدا ہوا تو اس کے ختنے کا حکم

Fatwa no.
3923-WAT
Issued
16 ذوالحجۃ الحرام 1446 هـ / 13 جون 2025ء

Question

بچه ختنہ شدہ پیدا ہوا تو اس کے ختنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ایک سوال پوچھنا تھا کہ ایک بہن کا بنا ہوا ہے اور اس کے فتنہ پہلے سے ہی کیے ہوئے ہیں، تو کیا دوبارہ ختنہ کروانے پڑیں گے یا نہیں؟ جواب

Answer (beginning)

اگر واقعی بچه ختنہ شدہ پیدا ہوا ہے یعنی وہ پیدا ہی اس حالت میں ہوا ہے کہ جو کھال ختنے میں کائی جاتی ہے ، وہ اس میں نہیں ہے تو ایسی صورت میں اس کا ختنہ نہیں کیا جائے گاکہ اس کی حاجت ہی نہیں ۔ منتہ السلوک فی شرح تحیتہ الملوک میں ہے "ولو ولد مختونا: لا يقطع منه شي، ترجمہ : اور اگر بچہ فتنہ شدہ پیدا ہو تو اس کی کوئی چیز نہیں کاٹی جائے گی۔ (منہ السلوک فی شرح تحيه الملوک ، کتاب الكراهية، ص 426، مطبوعہ : قطر) بہار شریعت میں ہے "بچہ پیدا ہی ایسا ہوا کہ ختنہ میں جو کھال کائی جاتی ہے وہ اس میں نہیں ہے تو ختنہ کی حاجت نہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.